بنگلورو،24؍جنوری(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بی جے پی لیڈر وں کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ماضی میں جو رقم جاری کی گئی تھی اس کو ریاستی حکومت نے استعمال نہیں کیا۔ میسور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے جو رقم جاری کی گئی تھی اسے مکمل طور پر استعمال کردیا گیا ہے اس میں سے ایک روپیہ بھی باقی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ خشک سالی سے راحت دلانے اور کسانوں کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کرنے کیلئے ان فنڈز کاا ستعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت پر وہ غیر ضروری الزامات لگانا پسند نہیں کرتے۔ کل جماعتی وفد کی طرف سے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے ایک ماہ قبل ریاستی حکومت نے نمائندگی کی ،لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھایا نہیں گیا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ اختیاری کمیٹی کا اجلاس بھی پندرہ دن قبل ہوا ، لیکن اب تک فنڈز جاری نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنانے کی خاطر عدالت عظمیٰ کو آگے آنا چاہئے۔ تملناڈو میں جلی کٹو معاملے میں مرکزی حکومت نے جس طرح آرڈیننس جاری کیا اسی طرح ریاست کے اڈپی اور دکشن کنڑا ضلع میں مقبول عام کمبالا دوڑ کیلئے بھی آر ڈیننس جاری کرنا چاہئے ۔ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر سدرامیا نے کہاکہ مرکزی حکومت سے ریاست کو جو بھی مدد ملے گی وہ رقم کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی پر استعمال میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ مرکز سے بارہا نمائندگی کے باوجود اب تک ایک پیسہ بھی ریاست کو ادا نہیں کیاگیا ہے۔ یڈیورپا کی طرف سے اس سلسلے میں اس تبصرہ پرکہ وزیر اعلیٰ کی عقل سلیم ناکارہ ہوچکی ہے، سدرامیا نے جواب دیا کہ یڈیورپا پہلے اپنی عقل کی جانچ کروالیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر مرکزی حکومت سے نمائندگی کی اور 4072 کروڑ روپیوں کی امداد فوراً فراہم کرنے کی مانگ رکھی ، لیکن مرکزی حکومت نے اس میں سے 1782کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان کیا، اعلان کو دو ہفتے گزر چکے ہیں ،لیکن اس میں سے کرناٹک کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی قائدین کو اگر ریاستی عوام سے واقعی ہمدردی ہے تو دہلی میں جاکر مرکزی وزراء اور وزیراعظم کو باور کروائیں کہ کرناٹک کو امداد ی رقم کی اشد ضرورت ہے اسی لئے فوراً رقم جاری کی جائے ، ورنہ ریاستی حکومت کی طرف سے جو قدم اٹھائے جارہے ہیں ان کی تائید کرتے ہوئے خاموش بیٹھیں۔ ریاست کے وزرائے مالگذاری اور وزرائے زراعت بارہا مرکزی حکومت سے نمائندگی کرتے رہے ہیں ، پھر بھی مرکزی وزیر سدانند گوڈا کہتے ہیں کہ ریاستی حکومت کی طرف سے مرکزی امداد حاصل کرنے کیلئے فالو اپ نہیں ہورہاہے۔ ریاستی حکومت مرکز سے نمائندگی کے علاوہ اور کر بھی کیاسکتی ہے؟۔